آرمی پبلک اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی شہیدافراد میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی لاش سی ایم ایچ منتقل کردی گئی ہے۔دوسری جانب فاٹاسیکریٹریٹ نے اعلان کیا ہے کہ قبائلی علاقوں کےتمام تعلیمی ادارے 3دن تک بند رہیں گے۔

پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے ایک پروفیسر اور 7طلباء کا تعلق چارسدہ سے ہے جن میں دو، دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والوں میں کرنل سکندر کے بیٹے حیات اللہ، نویں جماعت کے طالب علم ننگیال احمد ،ان کے چھوٹے بھائی اور آٹھویں جماعت کے طالب علم صبور احمد اور حمزہ کا تعلق تحصیل چارسدہ کے علاقے تورنگ زئی سے تھا جبکہ عزیر احمد کا تعلق شب قدر شہر جبکہ نویں و دسویں جماعت کے طالب علم دو سگے بھائی سیف اللہ اور نوراللہ کا تعلق تحصیل شب قدر کے علاقے یاغی بند کانگڑہ سے تھا۔ دہشت گردوں کے حملے میں شہید پروفیسر نواب علی چارسدہ شہر میں پرانا بازار کے رہائشی تھے۔ تمام سات بچوں اور پروفیسر نواب علی کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچادی گئی ہیں۔ پروفیسر کی نماز جنازہ صبح 9بجے اور تورنگ زئی سے تعلق رکھنے والے چار بچوں کی نماز جنازہ صبح 10 بجے ادا کی جائے گی۔ مٹہ مغول خیل کے عزیر احمد کی نمازجناہ صبح گیارہ بجےجبکہ یاغی بند کانگڑہ کے رہائشی دو سگے بھائیوں سیف اللہ اور نوراللہ کی تدفین مقامی قبرستان میں کردی گئی ہے۔

سانحہ پشاور کے حوالے سے اسلامی جمعیت طلبہ کراچی نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ جس میں قیم جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن اور ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی حافظ محمد بلال سمیت سینکڑوں طلبہ نے شرکت کی۔ طلبہ پاکستان کی حمایت میں پلے بورڈ اٹھائے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر قیم جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سانحہ پشاور کی سخت ترین مزمت کرتے ہیں اور شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں ، سینکڑوں طلباء کی شہادت پوری امت مسلمہ کے لئے ایک سانحہ ہے۔ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم سانحہ پشاور کے موقع پر شہید ہونے والے افراد سے اظہار یکجہتی اور اس بزدلانہ واقع پر دہشت گرد عناصر کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کرنے یہاں آئے ہیں ،یوم سقوط ڈھاکا کو اس واقعے کا رونما ہونا اس بات کی کڑی ہے کہ بیرون ملک دشمن عناصرپاکستان میںسر گرم ہیں، ہم رائج الوقت حکومت سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کا فی الفور نو ٹس لے، وفاقی و صوبائی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالائے طاق ہو کر اس مشکل گھڑی میں لوحقین کا ساتھ دیں اور ان کی ہر ممکن ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن اس مشکل گھڑی میں پشاور میں اسکول کے بچوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں، زیادہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ واقعہ عین سقوط ڈھاکا کے دن ہی کیا گیا ہے کہ جس دن دشمن نے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کر دیا تھااور اس وقت بھی البدر کے نو جوان دفاع پاکستان کی خاطر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے،آج ایک بار پھر 16 دسمبر کو ہی سینکڑوں کی تعداد میں معماران وطن کی شہادت در اصل پاکستان کا روشن مستقبل تباہ کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس افسوس ناک واقعے کی بنا پر کل اسلامی جمعیت طلبہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یوم سیاہ منائے گی۔

